عاد[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ ریاضی ]  وہ عدد جو کسی دوسرے عدد معلوم کو پورا پورا تقسیم کر دے۔ "کسی عدد کو پورا پورا تقسیم کرنے والے عدد کو جزو ضربی یا عاد کہتے ہیں۔"      ( ١٩٨٨ء، ریاضی، پانچویں جماعت کے لیے، ٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٤٠ء کو "اسفار اربعہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ ریاضی ]  وہ عدد جو کسی دوسرے عدد معلوم کو پورا پورا تقسیم کر دے۔ "کسی عدد کو پورا پورا تقسیم کرنے والے عدد کو جزو ضربی یا عاد کہتے ہیں۔"      ( ١٩٨٨ء، ریاضی، پانچویں جماعت کے لیے، ٦ )

اصل لفظ: عدد
جنس: مذکر